بسم الله الرحمن الرحیم
تحریر : ھارون رشید خواجہ
جھوٹ ایک ایسا ہتھیار ہے جسے انسان کئی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے ، تو دوسرا انسان سچ کے ہتھیار سے اپنا دفاع کرتا ہے ۔ جھوٹ کبائر میں سے ہے شریعت اسلامیہ نے جھوٹ بولنے والے کو ملعون کہا ہے ، منافقانہ طرز عمل گردانا ،ایک قسم کے جھوٹے( یعنی قاذف ) پر کوڑے برسانے کا حکم دیا ، دین میں(یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر) جھوٹ بولنے والے کا ٹھکانا جہنم قرار دیا ۔ ان باتوں کو ذہن میں رکھ کربہت سےعام انسان جھوٹ سے پرہیز کرتے ہیں ، لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایسے بھی لوگ ہیں جو جھوٹ بولنے کو دین کی دعوت ، اسے تقویت پہنچانے کا ذریعہ سمجھ کر اور سمجھا کرجھوٹ سے اپنا الو سیدھا کرتے ہیں ۔ یہ بات کچھ لوگوں کو شاید عجیب محسوس ہوگی کہ کوئی دعوت دین کے میدان میں بھی جھوٹ کہتا ہو۔ یہ ایسا سچ ہے جو باکل ثابت ہےاور سورج سے بھی زيادہ واضح ہے ۔ اور اسی لیے میں اس موضوع پر کسی قدر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں ، کیوں کہ کچھ لوگوں کویقین نہیں آرہا ہے کہ کوئی داعی الی اللہ بھی جھوٹ کہتا ہو، اس طرح سے وہ اس جھوٹے  داعی کے جال میں پھنس جاتا ہے اور شریفانہ انداز میں یہ جھوٹا شخص وسوسہ ڈالنے میں وقتی طور کامیاب ہوجاتا ہے  ۔
غور طلب بات یہ ہے کہ انسان جھوٹ کیوں بولتا ہے ؟ اس کا جواب کئی طرح کا ہوسکتا ہے یہاں پر میں اس کے کچھ اسباب درج کرتا ہوں جن میں پہلے پانچ کو علامہ ماوردی رحمہ اللہ نے جھوٹ کے اسباب گردانا ہے :
1 ۔ فائدہ حاصل کرنا اور نقصان سے بچنا ۔ جھوٹے لوگ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ محفوظ ( راستہ ) اور فائدہ مند ( طریقہ ) ہے، تو وہ اپنے آپ کو  دھوکہ دیتے ہوئے اور طمع کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے آپ کو اس کی رخصت ( اجازت ) دے دیتا ہے ۔
2۔ اپنی بات کو میٹھا ہونے اور ظریفانہ ہونے کا تاثر دینا ۔ تو وہ  ایسا سچ پاتا  ہی نہیں جو اس کی بات کو میٹھا بنا دے اور اسے ظرافت بخشے ۔ تو وہ ایسے جھوٹ کا زیور پہن لیتا ہے جس کے جذبات ( یا خواہشات )کا حصول دشوار نہیں ہوتا ہے ،اور نہ ہی اس کی پسندیدہ باتیں( بظاہر ) انوکھی ہوتی ہیں ۔
3۔ اپنے دشمن (یعنی اپنے مخالف ) کو تکلیف پہنچاکر اپنے دل کو راحت دینا ،  تو ( بے بنیاد ) برائیوں سے اسے داغ دار بناتا ہے جنہیں وہ خود گھڑ لیتا ہے ، اور اس کی طرف عیوب منسوب کرلیتا ہے ۔
4۔جب اس کے پاس جھوٹ کے اسباب بار بار پائے جاتے ہیں  تو وہ اس کے پاس مالوف ہوجاتے ہیں ، پھر اسے جھوٹ کی عادت ہوجاتی ہے ، اور نفس اس کی طرف مائل رہتا ہے ۔
5۔  لیڈری( جسے کشمیری میں زِچَھر کہتے ہیں )  کی محبت ہونا ۔ وہ اس طرح کہ جھوٹا ( آدمی ) اپنے آپ کے لیے اس پر  بڑا مرتبہ سمجھتا ہے جسے وہ ( جھوٹی ) خبر دیتا ہے،  اس ( جھوٹ )کے عوض میں جس کی وہ اسے جانکاری دیتا ہے  ۔ تو وہ اس میں عالم فاضل کی شکل اختیار( کر نے کی کوشش )کرتا ہے ۔
(نضرة النعيم في مكارم أخلاق الرسول الكريم - صلى الله عليه وسلم  / ج 11 / ص 5384 / فيستحلي الكذب الّذي)
6 ۔ ایک اور سبب حزبیت کی لت پڑنا بھی ہے ، بعض لوگوں کو تنظیم پرستی کی خاطراپنے پاس جب سچ کے ہتھیار  ختم ہوجاتے ہیں تو جھوٹ سے اس طرح  سہارا لیتے ہیں  کہ جسے وہ جھوٹ نہیں سمجھتے بلکہ اسے  کبھی" جماعت ( تنظیم ) کا وسیع تر مفاد " کبھی "جماعت کی خاطر حکمت عملی " کبھی کچھ اور گمراہ کن نام دیتے ہیں جن سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو گمراہ کرتے رہتے ہیں ۔ یہ ویسی ہی گمراہ کن پالیسی ہے جس طرح بعض لوگ اپنی تنظیم کو فائدہ پہنچانے کی خاطر کبھی شرک و بدعت کا سہارا بھی لیتے ہیں جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم توحید کا اقرار کرنے کےباوجود ایسا کیوں کرتے ہو؟ تو اس کا جواب برملا یہ ہوتا ہے کہ یہ " حکمت " ہے، مثال دے کر یوں سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص نجاست کے گھڑے میں گر گیا ہو تو دوسرا اسے نکالنا چاہتا ہے ، جس کے لیے اسے بھی اس نجاست کے گھڑے میں کودنا پڑتا ہے جہاں اس کے کپڑے اور بدن پر نجاست لگ جاتی ہے ، لیکن ایسا کرنا اس کے لیے وقت کی ضرورت ہوتی ہے  ۔ اس طرح سے ان دونوں طرح کے انسانوں کو شیطان اپنے جال میں اس طرح پھنسا دیتا ہے کہ وہ اسے خدمت دین باور کراتے ہيں ۔  ان کی آنکھ اور دل پرحزبیت کا ایسا پردہ پڑجاتا ہے  کہ اس وقت انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۃ حسنۃ بھی بھول جاتا ہے ، انہیں یہ غور کرنے کی توفیق نہیں ملتی ہے کہ کیا اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے جانثار صحابہ رضی اللہ عنہم بھی کرتے تھے ، کیا وہ بھی اسے اسلام ( جماعت ) کا وسیع تر مفاد کہتے تھے ، یا وہ ان امور کو گناہ کبیرہ ہی سمجھتے تھے ؟ !
دین میں جھوٹ بولنا بہت پہلے زمانے سے چلا آرہا ہے ، لوگ نت نئی تاویلات کرکے جھوٹ بولتے رہے ہیں ، تدوین احادیث کے زمانے میں بھی بعض لوگ دعوت دین کی خاطر جھوٹ کا سہار لیتے تھے ، جنہیں محدثین نے چن چن کر بے نقاب کردیا ، لیکن پھر بھی انہوں نے ہزاروں احادیث گھڑلیں ۔  ان من گھڑت احادیث کو بھی محدثین نے بے نقاب کردیا ، اس جھوٹ اور اس جھوٹے سے لوگوں کو خبر دار کرتے رہے ۔ بہت سے محدثین نے حدیث میں جھوٹ کے اسباب بھی بیان کیے ، چونکہ یہاں پر اس پر تفصیلی روشنی ڈالنا موضوع بحث  نہیں ہے لہذا یہاں پر میں اس وقت صرف چند اسباب کو اس لیےبیان کرتا ہوں تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ کس طرح لوگ دعوت دین میں بھی جھوٹ بولتے ہیں، اور عوام کو شیشے میں اتارنے کی کوشش کرتے ہیں :
1 ۔علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے  حدیث میں جھوٹ ، ہیرا پھیری ،اور وضع کے اسباب میں کہا ہے:
" ان میں ایسے بھی ہیں جن پر زہد غالب ہوا تو حفظ سے غافل ہوئے ۔۔۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو اپنے مذہب کی مدد کی خاطر ( حدیث ) گھڑلیتا ہے ۔۔۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو(نیکیوں کی ) ترغیب اور ( برائیوں کی ) ترہیب کے لیے بھی (حدیث ) گھڑ لیتا ہے، ان کے (اس )فعل کا مطلب یہ ہوا کہ دین ناقص ہے جسے ایک تکملہ کی ضرورت ہے ۔۔۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو حاکم کی قربت ( نزدیکی ) حاصل کرنا چاہتا ہے ، ان میں قصہ گو بھی ہیں جو ایسی احادیث چاہتے ہیں جو رقت آمیز ہوں اور خرچ کرنے والی ہوں   ۔۔۔ " (الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة للشوکاني/ ص 426/ من غلب عليهم الزهد)

2 ۔  امام شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں :  حدیث گھڑنے کے اسباب میں یہ بھی ہے کہ جو اس شخص سے صادر ہوتا ہے جسے  جم غفیر میں مناظرہ کے وقت دین نہیں رہتا ہے ، جو کچھ وہ کہتا ہے اس پر(جھوٹی حدیث سے ) استدلال کرتا ہے جو اس کی خواہش کے مطابق ہو ، اور ایسا وہ  اپنی بات کو قائم رکھنے کی خاطر کرتا ہے اور اپنے مد مقابل پر بلندی حاصل کرنے ، غلبہ پانے کی محبت ، لیڈری کے حصول ،اور بدنامی سے بچنے کی خاطر ایسا کرتا ہے ، جب اس پر اس کا مناظر غالب ہونے لگے۔  (الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة للشوکاني/ ص 427 / ما يقع لمن لا دين له)

3 ۔  امام غزالی رحمہ اللہ نے کہا :  بعض گمان کرنے والوں نے یہ گمان کیا کہ فضائل اعمال میں ، اور گناہوں میں تشدید کی خاطر جھوٹ بولنا جائز ہے،  اور انہوں نے گمان کیا کہ اس کا مقصد صحیح ہے ، حالاں کہ یہ فحش غلطی ہے ۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔۔۔ (قواعد التحديث من فنون مصطلح الحديث لجمال الدین الدمشقي / ص 128/ وقد ظن ظانون )

4 ۔  علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: حدیث گھڑنے کے اسباب یہ ہیں :
بے دینی ، جیسے زندیق لوگ ہوتے ہيں ۔
جہالت کا غلبہ ، جیسے بعض عابد ( عبادت گزار ) ہوتے ہيں ۔
تعصب کا غلو ، جیسے بعض مقلدین ہوتے ہیں ۔
بعض امیروں کی خواہش پرستی ۔( یعنی : بعض لوگ اپنے امیروں کی خواہش پورا کرنے کی خاطر حدیث گھڑلیتےہیں ، جس طرح عصر حاضر میں حزبی لوگ اپنے امیروں کو خوش کرنے کی خاطرشریفانہ لبادہ اوڑھ کر بہتان تراشی کرتے ہيں)۔
مشہور ہونے کے لیے انوکھی چیز بیان کرنا ۔
(نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر / ص 111 / اتِّباع هوى بعضِ الرؤساءِ)

4 ۔  فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعدبن عبد اللہ  الحمید(امام البانی اور علامہ ابن عثیمن کے شاگرد) نے کہا :
ا ۔ حدیث گھڑنے کے اسباب میں سے یہ ہے: قبائلی عصبیت ، مذہبی عصبیت ، اعتقادی عصبیت ، یہ سب (امور)عصبیت کے دائرے میں شامل ہیں ۔ (شرح نخبة الفكر / ص 334/ والعصبية المذهبية)
ب۔ اور کہا : حدیث گھڑنے کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ: اس ( من گھڑت ) حدیث سے اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کا قصد کرنا ۔بعض جاہل عابد ( عبادت گزار ) اور واعظین سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا اللہ کے دین کی غیرت میں سے ہے ، تاکہ لوگوں کو مختلف انواع کی اطاعات پر ابھارا جائے یا انہیں گناہوں سے ڈرایا جائے  ۔(شرح نخبة الفكر / ص 343/ الوضع بقصد التقرب)

5 ۔  فضیلۃ الشیخ عبد الکریم الخضیر(سعودی عرب کی دائمی فتوی کمیٹی کا ممبر ) نے کہا :
ا۔ اس نے وضع احادیث کے اسباب میں پہلا سبب یہ بتایا کہ: حدیث گھڑ کر اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنا تاکہ لوگوں کو خیرکے کاموں میں رغبت دلائی جائے اور برائیوں سے ڈرایا جائے ، یہ لوگ زہد اور اصلاح کی طرف منسوب ہوتے ہيں ۔ یہ حدیث گھڑنے والوں میں سب سے بری قسم ہے کیوں کہ لوگ ان پر اعتماد کرکے ان کی من گھڑت حدیثوں کو قبول کرلیتے ہیں ۔ (تحقيقُ الرغبةِ في توضيح النخبة / ص 92 / ترغيباً للناس في الخيرات)
ب ۔ چوتھا سبب یہ بتایا :  روزگار کمانے کی خواہش ہونا ، جیسے بعض قصہ گوئی کی باتوں کے ذریعہ سے لوگوں سے کماتے ہیں ، تو وہ بعض تسلی دینے والے اور عجیب قصے بیان کرتے ہیں ، تاکہ لوگ انہیں سنیں اور انہیں ( کچھ مال ) دیں ۔ (تحقيقُ الرغبةِ في توضيح النخبة / ص 93 / الرغبة في التكسُّب)

اوپر کی وضاحتوں سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ بعض لوگ بظاہر دین کے لیے بھی جھوٹ بولتے ہیں جیسے پہلے زمانہ میں لوگ ترغیب اور ترہیب کے لیے وضع حدیث کے گناہ کبیرہ میں ملوث ہوکر جہنم میں اپنا ٹھکانا خرید لیتے تھے ، اب چونکہ وہ لوگ دینداری کا لبادہ اوڑھ کر ایسا کرتے تھے لہذا یہ زیادہ خطرناک بھی تھا اسی لیے محدثین نے ان پر سخت ترین الفاظ میں تردید کردی ، کسی کو کذاب ( بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا ) کہا گیا ، کسی کو دجال ( حق کو باطل اور باطل کو حق بنا کر پیش کرنے والا ) کہا گیا ، اور کسی کو دونوں الفاظ سے پکارا گیا ، ایسا اس لیے کہ جتنا بڑا گناہ اور جتنی اس کی سنگینی ہو تو اتنا ہی اس پر سخت تردید کرنے کی ضرورت رہتی ہے ، کیوں کہ دین میں جھوٹ بول کر دین کو ہی نقصان پہنچایا جاتا ہے ، ذیل میں بطور مثال بعض جھوٹے راویوں کے بارے میں کچھ محدثین کی تردیدی الفاظ بیان کرتا ہوں:

1۔ محمد بن عبد الله بن إبراهيم بن ثابت الأشناني کے بارے میں امام دارقطنی رحمہ اللہ نے کہا :یہ كذاب دجال ہے، یہ حدیثیں گھڑ لیتا تھا . (الضعفاء و المتروکین للدارقطني )
2 ۔  أحمد بن نصر بن عبد الله أبو بكر الذراع کے بارے میں امام دارقطنی نے کہا : یہ كذاب دجال ہے (الضعفاء و المتروکین للدارقطني )
3 ۔  صالح بن أحمد بن أبي مقاتل کے بارے میں امام دارقطنی رحمہ اللہ نے کہا: یہ متروك( جسے ترک کیا گیا)ہے ، یہكذاب دجال ہے، ہم نے اسے پہچان لیا ہے ہم اس سے حدیثیں نہيں لکھتے ہیں کیوں کہ یہ ایسی حديثیں روایت کرتا ہے جو اس نے ( کسی روای سے ) نہیں سنیں ہيں  (الضعفاء و المتروکین للدارقطني )
4 ۔  محمد بن عبد الله بن إبراهيم بن ثابت أبو بكر الأشناني امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں کہا:یہ كذاب دجال ہے ۔ امام ابو بکر خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں کہا : یہ حدیث میں کھل کر گھڑ لیتا ہے  (الضعفاء و المتروکین للدارقطني )
5 ۔ علي بن عثمان بن خطاب أبو الدنيا : اس کے بارے میں امام حافظ عراقی نے کہا : یہ كذاب دجال ہے، یہ مصر آیا اور علی رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرنے لگا (ذيل ميزان الاعتدال للعراقي / ص 160 )
6 ۔  أحمد بن الحسن بن أبان المصري الآملي: اس کے بارے میں ابن عدی رحمہ اللہ نے کہا: یہ احادیث کی چوری کرتا تھا ، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کہا : یہ كذاب دجال ہے، یہ ثقہ راویوں سے حدیثیں گھڑلیتا ہے ( لسان المیزان لابن حجر / ج 1 / ص 426 )
7 ۔ أحمد بن محمد بن الفضل القيسي الابلي کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا: یہ كذاب دجال ہے ۔ ( المغني في الضعفاء للذھبي / ج 1 / ص 57 )
اسی طرح کے سینکڑوں افراد ہیں جن کے بارے میں محدثین نے سخت ترین الفاظ استعمال کیے ہیں۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اگر کذاب اس لیے کہا گیا کہ وہ جھوٹ بولتے تھے تو دجال کیوں کہا گيا ؟ اس کی وضاحت امام نووی رحمہ اللہ نے یوں کی ہے :
" دجال کو یہ نام اس کی تمويه ( جھوٹی بات کو خلاف واقع سنانے ) کی وجہ سے دیا گیا ہے، اور " دجل  " کا مطلب  تمويه اور تغطية (یعنی حق کو چھپانا ) ہے ۔ کہا جاتا ہے  "دَجَلَ فُلان إذا مَوه " ،  یعنی : فلاں نے دجالی کی جب وہ جھوٹی بات کو خلاف واقع سناتا ہے ۔ اور "دَجَلَ الحَقَّ "  کا مطلب یہ ہے کہ حق كو باطل سے چھپانا ۔  ابن فارس نے ثعلب سے ایسا ہی بیان کیا جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے ، اور اس سے اس کے علاوہ اوروں نے بھی بیان کیا ہے کہ اسے دجال اس کےجھوٹ کی وجہ سے نام دیا گیا ہے ، اور ہر کذاب (یعنی جھوٹا آدمی) دجال ہے" ۔  (تھذیب الاسماء و اللغات / نمبر 158 / ج 1 / ص 258/ سمى دجالاً لتمويهه)

عصر حاضر کے کذاب اور دجال:
چونکہ یہ بات واضح کی جاچکی ہے کہ پہلے زمانے میں دین کے لیے بھی بعض لوگ جھوٹ بولتے تھے ۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ اس وقت تدوین حدیث کا دور تھا لہذابعض لوگ احادیث بنانے کی کوشش کرتے تھے ، جنہیں محدثین نے بالکل ناکام بنادیا ۔ مگر دور جدید میں جب ایسے ہی ناعاقبت اندیش لوگ دعوت کے میدان میں آگیے تو انہوں نے اپنے سامنے حدیث بنانے کے دروازے بالکل بند پائے، کیوں کہ تدوین حدیث کا زمانہ ختم ہوچکا ہے ، تو انہوں نے جھوٹ کے ماڈرن طریقے تلاش کرنا شروع کیے، جیسے :
بعض لوگ قرآن اور حدیث کی ایسی تاویلات کرتے ہیں جنہیں اسلاف نے رد کردیا ہے ۔ اور باطل تاویلات کے خلاف اپنی کتابوں میں خصوصی طور بحوث لکھے ، بلکہ بعض نے مستقل کتابیں بھی تصنیف کیں ۔
بعض لوگ اپنے جھوٹ کو مصلحت کا  نام دیتے ہیں حالاں کہ  جو مصلحت شریعت میں متعبر ہے وہ اس جھوٹ سے مبرا ہے جیسا کہ اصول فقہ کی کتابوں میں علماء ربانیین نے اس پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے ۔ خاص کر جب یہ جھوٹ بہتان تراشی کی صورت میں ہو تو یہ عام جھوٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیوں کہ عام جھوٹ حقوق اللہ سے متعلق ہوسکتا ہے جب کہ بہتان تراشی حقوق العباد سے متعلق ہوسکتا ہے ۔
بعض لوگ جب تاویلات اورمصلحت کے ہتھیار بھی استعمال کرکے اپنی ناکامی سامنے محسوس کرتے ہیں تو بہتان تراشی سے کام لیتے ہیں، سچ چھاپتے ہیں اور جھوٹ کو سچ دکھانے کی جتن کرتے ہیں ، تاکہ قرآن اور حدیث اور منہج صحابہ رضی اللہ عنہم پر گامزن اللہ کی راہ میں  پر خلوص دعوتی اور دینی تعلیمی کام کرنے والوں سے عوام کو متنفر کردیا جائے ۔ عوام الناس کو ان شریفانہ لباسوں میں جھوٹ بولنے والوں سے خبردار رہنا چاہیے اور اللہ کے اس فرمان پر عمل کرنا چاہے :
" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ " (49 / الحجرات / 6)
اے ایمان والو ! جب تمہیں کوئی فاسق کوئی خبر لے کرآئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کرلو ، تاکہ ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچادو ، پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ ۔
لہذا مسلمان کو چاہیے کہ کسی کے جھانسے میں پھنس جانے کے بجائے معاملہ کی تحقیق کرلے اور سنی سنائی بات پر عمل نہ کرے ، اگرچہ سنانے والا بظاہر زاہدوں کے روپ میں بھی کیوں نہ ہو کیوں کہ اوپر یہ بات واضح کی جاچکی ہے کہ زاہد لوگ بھی کبھی جھوٹ بولتے تھے ، ہر سنی سنائی  بات کو بغیر تحقیق قبول کرنا منہج سلف کے خلاف ہے۔ بعض لوگ ان جھوٹے لوگوں کے جھوٹ کو  بھی پھیلاتے ہیں ، اور اس طرح وہ بھی جھوٹے بن جاتے ہیں کیوں کہ حفص بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :  
" كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ " (مسلم /  المقدمۃ / 3 - باب النَّهْىِ عَنِ الْحَدِيثِ بِكُلِّ مَا سَمِعَ)
یعنی : انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات ( بغیر تحقیق کے ) بیان کردے ۔
لہذا مسلمان جب کوئی بات سنے تو تحقیق کرلیے اگر اسے سچ پائے تو بیان کردے ، اور جب تک تحقیق مکمل نہ ہوجائے  تو بیان کرکے جھوٹا ہونے کی سند حاصل نہ کرے ۔  بغیر تحقیق کے کوئی سنی سنائی بات بیان کرنے کی وعید حفص بن عاصم رضی اللہ عنہ ہی سے مرفوعا ان الفاظ میں بھی آئی ہے :
" كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ " (ابو داود / 4992 / امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے )
یعنی : آدمی کے گناہگار ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات ( بغیر تحقیق کے ) بیان کردے ۔
لہذا مسلمان کو چاہیے کہ بغیر تحقیق کیے باتوں کو پھیلانے سے پرہیز کرے اور خاص کر جب ان جھوٹی باتوں کا مقصد منہج سلف پر گامزن دعوتی اداروں کو نقصان پہنچانا مقصود ہو ، تو ایسا شخص ایک اور سخت وعید میں آجاتا ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
" الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا أُولَئِكَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ " (14 / إبراھیم / 3)
یعنی : جو لوگ دنیاوی زندگی آخرت پر ( ترجیح دے کر ) پسند کرلیتے ہیں ، اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھ پن (خرابی ) پیداکرنا چاہتے ہيں تو ایسے لوگ کھلی گمراہی میں ہیں ۔
کبھی کوئی شخص جھوٹوں کی کثرت دیکھ کر انہيں سچے سمجھتا ہے اس طرح وہ شخص خود بھی گمراہ ہوسکتا ہے جیسے اللہ کا ارشاد ہے :
" وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ " (6 / الانعام/ 116)
یعنی :اور دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے گمراہ کردیں گے ، (کیوں کہ ) وہ تو صرف ظن ( گمان ) کے پیچھے پڑتے ہیں اور صرف اٹکل (اندازے ) سے کام لیتے ہیں ۔
اسی لیے اللہ تعالی نے بعض گمانوں کو گناہ قرار دیا جیسے فرمایا :
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ " (49 /  الحجرات / 12)
یعنی : اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں  ( یعنی بد گمانیوں ) سے پرہیز کرو ، یقینا بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ۔
آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا ہر گمان نہ صحیح ہوتا ہے اور نہ ہی غلط ہوتا ہے ، یعنی اس میں صحیح اور غلط دونوں ہوتے ہيں ،  لہذا بغیر تحقیق کے کوئی بات ثبوت کے بجاے محض گمان کی بنیاد پر کہنا گناہ کبیرہ ہے ، جیسا کہ ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
" إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ " (بخاری / 6066)
خبردار ! ظن ( گمان ) سے بچو ،یقینا ظن سب سے بڑا جھوٹ ہے ۔
اسی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بھائی چارہ قائم رکھنے کی ہدایت دی ہے جیسے فرمایا :
" وَلاَ تَحَاسَدُوا ، وَلاَ تَبَاغَضُوا ، وَلاَ تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا " (بخاری / 6066)
یعنی : آپس میں حسد مت کرو ، اور آپس میں نفرت مت رکھو ، اور نہ ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی اختیار کرو ، اور بھائی بھائی بن کر اللہ کے بندے بن جاؤ ۔
بعض لوگ منہج سلف کے بعض دینی اداروں سے بغض رکھتے ہیں اور سچ کے ہتھیار جب ان کے پاس موجود نہیں ہوتے ہيں تو جھوٹ اور بہتان تراشی کا سہارا لیتے ہيں ، حق کو باطل اور باطل کو حق دکھا کر پیش کرتے ہيں ، اور شریفانہ انداز میں کمینہ پنی کا کام کرتے ہيں ، ایسے لوگوں میں اگر اللہ کے خوف کی کوئی کرن موجود ہے تو انہیں اس آیت سے اپنے ایمان کو ریچارج کرنا چاہیے، اللہ تعالی فرماتے ہیں :
" مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ " (50 / ق / 18)
یعنی:  ( انسان ) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر اس کے پاس نگہبان ( فرشتے لکھنے کے لیے ) تیار رہتے ہیں ۔
کوئی انسان کسی ایسی بات کے پیچھے لگ جاتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہی نہیں ہوتا ہے ، ایسے انسان کو یہ نہ بھولنا چاہیے کہ قیامت کے روز اس سے پوچھا جاے گا ، جیسے اللہ کا فرمان ہے :
" وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا " (17 / الإسراء / 36)
یعنی : جس بات کی تجھے خبر نہیں ہے اس کے پیچھے مٹ پڑو ، یقینا کان ، اور آنکھ ، اور دل ، ان سب میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے ۔
لہذا ایسے لوگ جب بہتان تراشی کریں تو وہ یہ نہ بھولیں کہ فرشتے اسے لکھتے ہيں اور کل قیامت کے روز اسے حساب دینا ہوگا ، اور ایسے لوگ اپنے آپ کو ابلیس کی اس تلبیس سے دھوکہ نہ دیں کہ پھر توبہ کرلیں گے! اور اللہ تعالی معاف کرنے والا ہے ! ۔ انہيں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی صرف حقوق اللہ کو معاف کرتا اور حقوق العباد کی معافی کا حق اس نے اپنے بندوں کو دیا ہے ، اور بہتان تراشی چونکہ انسان پر جھوٹی تہمت لگائی جاتی ہے لہذا اسے صرف توبہ سے معاف نہیں کیا جائے گا جب تک وہ انسان بخش نہ دے ۔ بہتان تراشی کرنے والے کو کیا معلوم ہے کہ جس طرح وہ دوسروں کو بہتان تراشی سے تکلیف دے کردنیا میں خوشی محسوس کرتا ہے، اس کے بدلے میں وہ شخص بھی کل قیامت کے روز اسے اللہ تعالی سے سزا دلا کر خوشی محسوس کرنے کے انتظار میں ہو ! ۔
بہتان تراشی کرنے والا جھوٹ کہتے وقت اس کی پرواہ بھی نہيں کرتا ہے ، یہ ایسی بات ہے جسے اللہ تعالی کبھی پسند نہیں کرتا ہے اور یہ اللہ تعالی کو ناراض کرنے کا خطرناک ذریعہ ہے ، اور اللہ تعالی جس شخص کی بات سے ناراض ہوجائے تو اس کی خیر نہيں ، ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ" (بخاری / 6478)
یعنی : اور بندہ ( یعنی کوئی شخص ) کبھی اللہ کو ناراض کرنے والا ایسا لفظ بول دیتا ہے جس کی وہ پرواہ نہیں کرتا ہے تو وہ اس کی وجہ سے جہنم میں پہنچ جاتا ہے ۔
اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَتَبَيَّنُ فِيهَا يَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مِمَّا بَيْنَ الْمَشْرِق " (بخاری / 6477)
یعنی : یقینا بندہ ( یعنی کوئی آدمی ) کبھی ایسی بات کرتا ہے جس(کے برا ہونے ) پر وہ غور و فکر نہیں کرتا ہے ، تو اسی کی وجہ سے وہ جہنم میں مشرق جتنا دورگرجاتا ہے ۔
آدمی کو چاہیے کہ زبان کی حفاظت نہ کرکے جنت کی گارنٹی سے اپنے آپ کو محروم نہ کردے ، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ" (بخاری / 6474)
یعنی : جو مجھے اس کی ضمانت ( گارنٹی ) دے جو دو جبڑوں کے درمیان ہے( یعنی زبان کی)اور جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے ( یعنی شرمگاہ کی )  تو میں اسے جنت کی ضمانت دوں گا ۔
کبھی کوئی آدمی جھوٹ کو ہلکا سمجھ لیتا ہے ، بے پرواہی سے جھوٹ کہہ دیتا ہے ایسے شخص کو معلوم ہونا چاہیے کہ جھوٹ بولنے سے آدمی کا نام اللہ کے نزدیک کذابوں  کی رجسٹر میں لکھا جاتا ہے جیسے عبد اللہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
" وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ كَذَّابًا " (بخاری / 6094)
یعنی :  اور یقینا جھوٹ فجور ( گناہ ، برائی ) تک پہنچا دیتا ہے ، اور فجور ( جہنم کی ) آگ تک پہنچا دیتا ہے ، اور یقینا آدمی جھوٹ بول دیتا ہے تو وہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ۔
بعض لوگ جھوٹ کی تلاش کرتے رہتے ہيں تاکہ اس سے اپنا کام چلائیں تو ایسے لوگوں کی بھی سخت وعید آئی ہے ، جیسا کہ عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ہی ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
" وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا " (مسلم / کتاب البر و الصلۃ و الآداب / 29 - باب قُبْحِ الْكَذِبِ وَحُسْنِ الصِّدْقِ وَفَضْلِ)
یعنی : آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ ( ہی کی ) تلاش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ۔
جھوٹ بولنا بڑے سے بڑے گناہوں میں سے ہے جیسا  کہ ابو بکرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
" أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ثَلاَثًا قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَجَلَسَ ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَقَالَ أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ " (بخاری / 2694)
یعنی : خبردار ! کیا میں تمہیں بڑے سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاوں ؟  - ایسا تین بار فرمایا – تو انہوں نے (یعنی صحابہ رضي اللہ عنہم نے )  کہا : کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول ! تو فرمایا : اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، اور والدین کی نافرمانی کرنا ، وہ ٹیک لگا کرتھے تو ( پہلے سیدھا ) بیٹھ گئے  پھر فرمایا : اور بے بنیاد بات کہنا ۔
اہل سنت و جماعت کا عقیدۃ یہ ہے کہ آدمی کبیرۃ گناہ کے ارتکاب سے کافر نہیں بن جاتا ہے البتہ فاسق اور فاجر ضرور بن جاتا ہے ، لیکن جب وہ اس کبیرہ گناہ کو حلال سمجھ بیٹھتا ہے تو یقینا وہ کافر بن جاتا ہے ۔ اب جو آدمی جھوٹ کو گناہ سمجھ کر بول دیتا ہے تو ایسے آدمی کو اعتقادی منافق تو نہیں کہہ سکتے البتہ منافقانہ کام کرنے والا تو ضرور کہلایا جائے گا ، یہی مطلب اس حدیث کا ہے جسے ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ مرفوعا روایت کرتے ہيں ،  جس میں آیا ہے :
" آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ۔۔۔ " (بخاری / 33 )
یعنی : منافق کی تین نشانیاں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے ۔۔۔ ۔
اس مفہوم کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جسے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مرفوعا روایت کرتے ہیں : " أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا ۔۔۔ وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ " (بخاری / 34) یعنی :چار چيزیں(یعنی خصلتیں) ایسی ہيں کہ جس ( شخص ) میں وہ (چاروں) موجود ہوں تو وہ پکا منافق ہے ، اور جس میں ان چار میں سے ایک ہی ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک اسے وہ ترک نہ کردے ، ۔۔۔ (پھر فرمایا): جب بات کرے تو جھوٹ بولے ۔
بعض لوگ اگر چہ خود تو جھوٹ نہیں بولتے مگر سچ چھپاتے ہیں ایسے لوگوں کی بھی سخت وعید آئی ہے ، جیسے اللہ کا ارشاد ہے : " وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ " (2 / البقرۃ / 283)
یعنی: اور تم گواہی مت چھپاو ، اور جو اسے چھپائے گا تو یقینا وہ ایسا ہے کہ اس کا دل گناہگار ہے ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے جاننے والا ہے ۔
اللہ تعالی نے گواہی چھپانے والے کو سب سے بڑا ظالم قرار دیا ہے جیسے فرمایا :
" ۔۔۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَادَةً عِندَهُ مِنَ اللَّهِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ " (2 / البقرۃ / 140)
یعنی : اور اللہ کے پاس شہادت چھپانے والے سے زیادہ ظالم اور کون ہے ؟ اور اللہ اس سے غافل نہیں ہے جو تم کرتے ہو ۔
بعض لوگ جو اللہ سے نہیں شرماتے ، رمضان المبارک میں بھی اپنے جھوٹ کا خصوصی پیکیج دوسروں کو ہدیہ کرتے ہيں تاکہ حزبیت کے ملعون اور مردود کام میں انہیں آسانی ہوسکے ، ایسے رمضان کے جھوٹوں کی بھی سخت خصوصی وعید آئی ہے جیسا کہ ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
" مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ " (بخاری / 1903)
یعنی : جو( شخص ) جھوٹی ( یعنی بے بنیاد ) بات اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کواس کی کوئی ضرورت ( یعنی پرواہ ) نہیں ہے کہ وہ کھانا اور پینا ( روزہ کی وجہ سے ) ترک کردے ( یا نہ کرے ) ۔
مطلب واضح ہے کہ جو شخص روزہ کی حالت میں جھوٹ سے اور اس جھوٹ پر عمل کرنے سے باز نہیں رہتا ہے تو چاہے وہ روزہ کی حالت میں کھانا پینا ترک بھی کرتا ہو تو بھی اللہ تعالی اسے اس کا کوئی اجر نہیں دے گا ۔
بعض لوگ منہج سلف پر گامزن اداروں کو نقصان پہنچانے کی غرض سے جھوٹ بولتے ہيں اور عوام کو ان سے بدظن کرنے کے منکر کام کرتے ہیں ، ایسا کرنے والے اگرچہ اعتقادی منافق تو نہیں بن جاتے لیکن ایسا کام کرنا منافقین ہی کی خصلت ہے ، اللہ کا ارشاد ہے :
" الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ " (9 / التوبۃ / 67)
یعنی : تمام منافق مرد وعورتیں آپس میں ایک ہی ہیں ، یہ بری باتوں ( منکر ) کا حکم دیتے ہیں اور بھلی ( اچھی )باتوں سے روکتے ہیں ، اور اپنی مٹھیاں( خرچ نہ کرکے ) بند رکھتے ہيں ۔
ایسے لوگوں کو اللہ کا یہ فرمان نہ بھولنا چاہیے :
" وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ " (5 / المائدۃ / 2)
یعنی : نیکی اور پرہیزگاری ( کے کاموں ) پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو ، اور گناہ اور سرکشی ( کے کاموں ) پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون مت کرو ، اور اللہ سے ڈرتے رہو ، یقینا اللہ  سخت سزا دینے والا ہے ۔
بعض لوگ ان برے اعمال میں ایسے خوگر ہوجاتے ہيں کہ انہيں پھر بڑے سے بڑے گناہ بھی چھوٹے لگتے ہیں جن پر انس رضی اللہ عنہ کی یہ بات صادق آجاتی ہے :
" إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالاً هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعَرِ إِنْ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْمُوبِقَاتِ " (بخاری / 6492)
یعنی : تم تو ایسے کام کربیٹھتے ہو کہ وہ تمہاری نظروں میں بال سے بھی باریک ہوتے ہیں، جب کہ ہم تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہلاک کرنے والے گناہ سمجھتے تھے ۔
سبحان اللہ !!! اس صحابہ کا یہ تعجب صدیوں پہلے زمانے سے متعلق ہے اور اگر وہی صحابی آج کل حزبیوں کو رمضان المبارک میں خصوصی جھوٹ بولتے، اور بہتان تراشی کرتے دیکھیں توانہیں کس قدر تعجب ہوگا ، وہ اللہ ہی جانتا ہے !!

جھوٹے لوگوں سے علم یا فتوی حاصل کرنے کا مسئلہ :
محدثین نے مقبول اور مردود احادیث کی چھانٹ کرنے کے لیے بہت سے اصول بنائےہیں جو کہ اصول حدیث کی کتابوں میں مفصل طور بیان کیے گیے ہیں ، یہاں ان کے بیان کرنے کا محل نہیں ہے البتہ مضمون سے متعلق بات کا ذکر  کرنا فائدہ مند ضرور ہے ، وہ یہ کہ جو شخص حدیث میں جھوٹ بولتا تھا اس کی روایت کو موضوع ( من گھڑت ) حدیث کہا جاتا ہے  اور جس شخص کا جھوٹ بولنا حدیث کے بارے میں ثابت نہ ہو البتہ دیگر امور میں اس کا جھوٹ بولنا ثابت ہوجائے یا اس پر جھوٹ کی تہمت ہو تو اس کی روایت کو متروک کہا  جاتا ہے جو سخت ترین ضعیف حدیث مانی جاتی ہے ایسے راوی سے روایت نہیں لی جاتی تھی ۔اسی لیے اس راوی کو بھی متروک کہا جاتا ہے ۔ کیوں کہ جو ديگر امور میں جھوٹ کہے گا تو ایسے شخص سے یہ بھی احتمال ہے کہ وہ دین میں بھی جھوٹ کہے گا لہذا اس سے اجتناب کرنا لازمی ہے ۔ علماء نے متروک کے ایک سے زیادہ اسباب بیان کیے ہیں جن میں راوی کے جھوٹ بولنے کا ایک اہم سبب بھی ہے ، ذیل میں چند حوالہ جات پر اکتفا کرتا ہوں :
1 ۔  علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا : "والقسم الثاني من أقسام المردود وهو ما يكون بسبب تهمة الراوي بالكذب هو المتروك " (نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر / ص 112)
یعنی: مردود کی اقسام میں دوسری قسم وہ ہے جو راوی پر جھوٹ بولنے کی تہمت ہو، وہ متروک ہے ۔
  جب کہ حافظ ابن حجر نے موضوع کی یہ تعریف بتائی ہے :
" فالقسم الأول: - وهو الطعن بكذب الراوي في الحديث النبويّ - هو الموضوع " (نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر / ص 107)
یعنی : پہلی قسم : یہ ہے کہ راوی پر حدیث نبوی میں جھوٹ بولنے کی جرح ہو ، ( تو ) وہ موضوع ہے ۔
دونوں تعریفوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ حدیث نبوی میں جھوٹ بولنا موضوع کہلاتا ہے اور اس کے بغیر دیگر امور میں جھوٹ بولنا متروک کہلاتا ہے ۔
2 ۔ فقیہ العصر علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے کہا :
جب ہم اس میں ( یعنی ابن حجر کی  التهذیب میں ) اس کی یہ بات پائیں " قد اتهم بالكذب " یعنی : اس پر جھوٹ کی تہمت ہے ۔ تو ہم اسے بھی متروک کہیں گے ، کیوں کہ " المتهم بالكذب " کی حديث موضوع کی طرح ہوتی ہے ، لیکن ہم یقین کے ساتھ اسے موضوع نہیں کہہ سکتے ہیں ،  البتہ " متهماً بالكذب " ہونے کی وجہ سے اس کی حدیث وضع( یعنی موضوع کے درجہ) تک گر جاتی ہے ۔  (شرح المنظومة البيقونية في مصطلح الحديث / ص 119) متروک کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو علامہ ابن عثیمین کی شرح نزھۃ النظر ص 203 ۔
3 ۔ امام شعبۃ رحمہ اللہ نے کہا: "وإذا اتهم بالكذب طُرِحَ حَديثُه" (لسان المیزان / ج 1 / ص 12) یعنی : جب اس( راوی )کو جھوٹ کی تہمت ہو تو اس کی حدیث کو ترک کیا جائے گا ۔

محدثین نے بہت سے راویوں کو متروک قرار دیا ہے، اور ان سے حدیث لینا ترک کردیا، جن کی مثالیں سینکڑوں میں ہیں ، جیسے :
1۔ یحیی بن مغیرۃ نے کہا میں نے جریر سے اس کے بھائی انس( بن عیاض) کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: "لا يُكتَب عنه فإنه يَكذِب في كلامِ الناس" (الجرح و التعدیل للرازي / ج 2 / ص 289)  یعنی: اس سے ( حدیث کو ) نہ لکھا جائے ، کیوں کہ وہ لوگوں کے ساتھ کلام میں جھوٹ بولتا ہے ۔
2۔ محمد بن سعيد الشامي کے بارے میں امام بخاری نے کہا : یہ متروک الحدیث ہے ۔ ( التاریخ الکبیر / ج 1 / ص 94 )
3 ۔  خارجة بن مصعب سرخسي کے بارے میں امام نسائی نے کہا : یہ متروک الحدیث ہے ۔ ( الضعفاء و المتروکون / ج 1 / ص 18 )
4 ۔ إبراهيم بن هراسة أبو إسحاق الشيباني الكوفي کے بارے میں امام بخاری ، امام نسائی ، امام ابو داود ، امام ابو حاتم رازی نے کہا : یہ متروک الحدیث ہے ۔ ( الضعفاء و المتروکین / ج 1 / ص 58 )
غور طلب بات یہ ہے کہ محدثین نے ان لوگوں کو متروک قرار دیا ہے کیوں کہ خدشہ ہے کہ ایسے لوگ دین میں جھوٹ نہ بولیں ، لہذا احتیاط کی غرض سے ایسے لوگوں کو ترک کردیا گیا ہے ۔ اسی لیے امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے کہا :
" الإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ وَلَوْلاَ الإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ. " ( مسلم / المقدمۃ / 5 - باب فِى أَنَّ الإِسْنَادَ مِنَ الدِّينِ )
یعنی : اسناد( یعنی حدیث کی سند بیان کرنا ) دین میں سے ہے ، اور اگر اسناد نہ ہوتی تو جو کوئی کچھ کہنا چاہتا تو کہہ دیتا۔
اسی طرح امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے کہا :
" إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ " (مسلم / المقدمۃ / 5 - باب فِى أَنَّ الإِسْنَادَ مِنَ الدِّينِ.)
یعنی : یہ علم دین ہےلہذا دیکھ لو کہ تم اپنا دین کس سے حاصل کرتے ہو ۔
معلوم ہوا کہ پہلے زمانے میں علماء دین بہت زیادہ احتیاط کرتے تھے ، جھوٹوں اور مشکوک لوگوں سے دین حاصل کرنے سے بالکل پرہیز کرتے تھے ۔  دور حاضر میں بھی اگر کوئی شخص دعوت دین کے میدان میں ہوتے ہوئے جھوٹ بولتا ہو تو ایسے شخص پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے، اسے ترک کرناواجب ہے ،  ایسے لوگ بھی اگر محدثین کے زمانے میں ہوتے تو ان کے نام بھی  " الضعفاء و المتروکین " جیسی کتابوں میں ملتے ۔  ایسے لوگ اگرچہ آج کل کے زمانے میں جھوٹی حديثیں گھڑ نہیں سکتے تاہم تحریف معنوی کا دروازہ پھر بھی کھلا ہے ، وہ لوگ اپنا کام اسی سے چلاتے ہیں ، اس تحریف کی مزمت اور رد میں علماء دین نے مفصل بحوث لکھی ہیں جس کو یہاں خوف طوالت سے بیان نہیں کرسکتا ہوں ۔
عام کلام میں جھوٹ بولنے والے لوگوں کو ترک کرنا لازمی ہے اور ان سے علم حاصل کرنا جائز نہیں ہے ، اسلاف کا طریقہ بھی یہی رہا ہے ، اگرچہ وہ حدیث نبوی میں جھوٹ نہ بھی بولیں ، امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ کا کلام یوں نقل کیا ہے :
"لاَ يُؤْخَذُ العِلْمُ عَنْ أَرْبَعَةٍ: سَفِيْهٍ يُعلِنُ السَّفَهَ، وَإِنْ كَانَ أَرْوَى النَّاسِ، وَصَاحِبِ بِدْعَةٍ يَدعُو إِلَى هَوَاهُ، وَمَنْ يَكْذِبُ فِي حَدِيْثِ النَّاسِ، وَإِنْ كُنْتُ لاَ أَتَّهِمُهُ فِي الحَدِيْثِ، وَصَالِحٍ عَابِدٍ فَاضِلٍ، إِذَا كَانَ لاَ يَحْفَظُ مَا يُحَدِّثُ بِهِ" (سیر اعلام النبلاء / ج 15 / ص 66)
یعنی: چار (قسم کے اشخاص ) سے علم حاصل نہیں کیا جائے گا، بیوقوف سے جو سر عام بیوقوفی کرتا ہو ، اگرچہ  وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ بیان کرنے والا ہو ، اور بدعتی سے جو نفسانی خواہش کی طرف بلاتا ہو ، اور جو لوگوں کے ساتھ کلام میں جھوٹ کہتا ہو اگرچہ  میں اسے حدیث ( نبوی ) میں ( جھوٹ کا ) الزام نہ بھی لگاتا ہوں ، اور ایسے نیک فاضل عابد ( عبادت گزار )  سے جسے یہ یاد ہی نہیں رہتا ہو کہ جو کچھ وہ کہتا ہے ۔
اسی طرح حافظ ابن حجر  نے امام مالک سے یوں بیان درج کیا ہے :

ابو مصعب الزبیری نے کہا میں نے مالک کو کہتے سنا : تمام بدعتیوں سے علم حاصل نہیں کیا جائے گا ،اور نہ اس سے علم لیا جائے گا جو طلب ( علم ) کرنے اور اہل علم کے ساتھ بیٹھنے میں معروف نہ ہو ، اور نہ ہی اس سے علم لیا جائے گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں جھوٹ بولتا ہو ، ( پھر کہا : )  " ولا عمن يكذب في حديث الناس وإن كان في حديث النبي صلى الله عليه و سلم صادقا لأن الحديث والعلم إذا سمع من الرجل فقد جعل حجة بين الذي سمعه وبين الله تعالى فلينظر عمن يأخذ دينه " یعنی : اور نہ ہی اس سے (علم ) لیا جائے گا جو لوگوں کے ساتھ کلام میں جھوٹ بولتا ہو اگرچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ( بیان کرنے ) میں سچا ہی ہو  ۔ کیوں کہ جب( کوئی شخص) حدیث اور علم( کسی ) آدمی سے حاصل کرتا ہے تو وہ اسے اس شخص کے درمیان جس سے وہ سنتا ہے اور اللہ کے درمیان حجت سمجھ لیتا ہے ، لہذا اسے چاہے کہ ( غور سے ) دیکھے کہ وہ کس سے اپنا دین حاصل کرتا ہے ۔  (لسان المیزان / ج 1 / ص 12)
خلاصہ کلام یوں ہے کہ دعوت دین میں کسی بھی طرح جھوٹ کی چھوٹ نہیں ہے ، اپنے آپ کو دھوکہ دے کر جھوٹ میں چھوٹ نہ سمجھی جائی ، پہلے زمانے کے کچھ زاہد و عابد لوگ بھی دین کی خاطر جھوٹی حدیثیں بیان کرتے تھے جنہيں محدثین نے کذابوں کی لسٹ میں درج کردیا ہے ، دور جدید میں چونکہ حدیث کے الفاظ گھڑنے کا موقع نہ پاکر بعض حزبی ( تنظیم پرست ) لوگ اپنی جماعتوں ( تنظیموں ) کےنام نہاد وسیع تر مفاد کی خاطر جھوٹ میں چھوٹ سمجھ کراپنے آپ کے ساتھ ساتھ عوام کو دھوکہ دیے کر گناہ کبیرہ  کا ارتکاب کربیٹھتے ہیں، اور جزبیت کی بدعت کو سنت سے رشتہ جوڑنے کی ناکام اور مذموم کوشش کرتے ہیں ، اور بعض لوگ منہج سلف پر گامزن دینی اداروں کو نقصان پہنچانے کی خاطر بہتان تراشی اور جھوٹ کا سہار ا لیتے ہیں ، یہ سب کام شریفانہ لبادہ اوڑھ کر کیا جاتا ہے ، یہ سب خلاف شریعت کام ہیں ، ایسا کرنے والے گناہ کبیرہ کے مرتکب ٹھہرتے ہيں ۔ جب تک ایسے لوگ اس روش پر رہیں گے تو ان سے دین حاصل کرنا سلف کے منہج کے خلاف ہے ،  جیسا کہ اوپر مفصل اور مدلل طور واضح کیا جاچکا ہے ۔
اب جو شخص اتنی ساری مدلل و مفصل وضاحت کے بعد بھی حزبیت کی لت میں رہتے ہوئے جھوٹ ، دھوکہ ،  فریب اور بہتان تراشی سے باز نہ آئے، اور تنظیم کی پوجا کرنے کی خاطر جھوٹ سے توبہ نہ کرلے  تو اس سے میں مزید کیا کہوں ؟ !،  اس کے بارے میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کافی ہے ، جس میں آیا ہے : " إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ " (بخاری / 6120)یعنی : جب تو حیاء نہ کرے( یعنی بے شرم ہو ) تو جو مرضی ہے کرلو ۔
و صلی اللہ علی النبي و سلم تسلیما کثیرا ، و علی آلہ و صحبہ  أجمعین ۔
تحریر
ھارون رشید خواجہ
( مدیر  ھیئۃ الطلاب المسلمین جموں وکشمیر MSB )
بتاریخ : 18 فروری 2016 / بوقت 12:20  pm

0 comments :

Post a Comment

May Allah Bless YOU.

Be with US

 
How to Lose Weight at Home Top